Daily ruzn1.9
daily ruzn newspaper breaking news urdu news. Updates

12صوبے یا طاقت کی نئی تقسیم

12صوبے یا طاقت کی نئی تقسیم

پاکستان میں اس وقت چاروں صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہیں جبکہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت چلا رہی ہیں۔ اب ملک میں 12 صوبے بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اگر نئے صوبے بننے ہیں تو یہ فیصلہ عوام، پارلیمنٹ اور آئین کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ کسی طاقتور حلقے کے دباؤ پر۔ صوبے بنانا حکومت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہے، کسی اور ادارے کا نہیں۔ اگر واقعی حکومت پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ 12 صوبے بنا دو، ورنہ کرپشن اور دوسرے مقدمات کھول دیے جائیں گے، تو پھر سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر وہ مقدمات سچے ہیں تو آج تک بند کیوں پڑے ہیں؟ اور اگر حکومت مطالبہ مان لے تو کیا وہی مقدمات اچانک جھوٹے ہو جائیں گے؟ یہ کون سا انصاف ہے کہ ایک شخص کے خلاف فائلیں تیار رکھی جائیں، جب ضرورت ہو تو خاموش رہیں، اور جب وہ حکم نہ مانے تو اچانک سب کچھ یاد آ جائے؟ اگر مقصد صرف 12 صوبے بنانا ہے تو پھر عوام کو بتایا جائے کہ ان سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر مقصد ہر نئے صوبے میں نئی طاقت، نئی سودے بازی اور نئے سیاسی انتظامات پیدا کرنا ہے، تو عوام کو حق ہے کہ وہ اس پر سوال اٹھائیں۔

دوسری طرف حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے کو فارم 47 کے طعنے بھی دیتی ہیں۔ ایک کہتی ہے حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے، دوسری جواب دیتی ہے کہ اگر ایسا ہے تو صدر بھی اسی نظام کے ووٹوں سے منتخب ہوا۔ پھر سوال یہ ہے کہ جب دونوں ایک دوسرے کے بیانیے کو غلط ثابت کر رہے ہیں تو اقتدار میں ساتھ کیوں بیٹھے ہیں؟ میرا اختلاف کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں، بلکہ اس پورے نظام سے ہے جہاں حکومتیں بنائی بھی جاتی ہیں، پھر انہی حکومتوں کو فائلوں، مقدمات اور دباؤ کے ذریعے چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ جمہوریت نہیں، بلکہ طاقت کی م کو ہےپسیاست ہے، اور اس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان اور اس کے عوا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More