سیکٹریری مواصلات
سیکٹریری مواصلات

کوئیٹہ ۔ 28 جولائی
سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کے زیر صدارت اپ لفٹنگ آف رکھنی ٹاؤن و ری ماڈلنگ آف رکھنی بازار منصوبے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈی سی بارکھان نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کی اس کے علاؤہ چیف انجینئر لورالائی ژوب زون قاضی نور الحق ایس ای بارکھان و موسیٰ خیل عبدالرازق مندوخیل ایگزیکٹیو انجنیر بارکھان انجنیر فضل کریم متعلقہ کنسلٹنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھےاجلاس کے دوران منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تعمیراتی سرگرمیوں درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیابریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کام جاری ہے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے رکھنی ٹاؤن کی اپ لفٹنگ اور بازار کی ری ماڈلنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام کے بعد رکھنی کو بطور ڈویژنل ہیڈکوارٹر خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ہےاس تناظر میں شہر کی بنیادی سہولیات سڑکوں نکاسی آب بازاروں اور شہری ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رکھنی شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور معیار کو یقینی بنایا جائےانہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو یہ واضح ہدایات دیں کہ جہاں جہاں انھیں کام کے لیے مواقع حاصل ہیں وہاں پوری رفتار کے ساتھ کام کو تیز کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ٹیم ورک کے ساتھ کام کرنا ہے تاکہ یہ اہم نوعیت کا منصوبہ اپنے وقت مقررہ پر مکمل ہو سیکریٹری مواصلات و تعمیرات تعمیرات بابر خان نے ڈپٹی کمشنر بارکھان کے جوائنٹ کمیٹی بھی بنانے کی ہدایت کی تاکہ ہم کمیٹی اس منصوبے کی ہر زاویہ سے جانچ پڑتال کرے اور جو بھی خامیاں ہیں انہیں ختم کیا جائے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی یہ اولین ترجیع ہے رکھنی شہر کو دور حاضر کے جدید سہولیات سے ہم آہنگ کریں جس کے کشادہ سڑکیں موثرسٹریٹ لائیٹس معیاری بائی پاس کے علاوہ مرکزی بازار میں دکانوں اور ریڑھی بانوں کے لیے الگ اور منظم جگہ فراہم کی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رکھنی شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا جائے