وفاقی صوبائی حکومت گیس مسائل 21-08-2026
وفاقی صوبائی حکومت گیس مسائل 21-08-2026

*وفاقی و صوبائی حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی غیر سنجیدگی ناقابلِ قبول، بلوچستان کے عوام گزشتہ 9 روز سے گیس سے محروم*
*عوام کو محض بیانات اور یقین دہانیوں کے بجائے واضح ٹائم لائن، اصل صورتحال اور گیس کی بحالی کا حتمی شیڈول دیا جائے۔*
کوئٹہ/مستونگ: وفاقی و صوبائی حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی ناقص کارکردگی، غیر سنجیدگی اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کے باعث بلوچستان کے لاکھوں شہری گزشتہ 9 روز سے گیس کی مکمل بندش کے باعث شدید مشکلات اور اذیت کا شکار ہیں۔ بولان کے مقام پر گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچائے جانے کے بعد کوئٹہ، مستونگ، قلات، ڈھاڈر، مچھ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں گیس کی فراہمی بدستور معطل ہے۔
گیس کی طویل بندش نے گھریلو صارفین کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سردی کے موسم میں شہری کھانا پکانے سمیت روزمرہ ضروریات کے لیے متبادل ایندھن خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ مہنگے متبادل ایندھن نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائنیں بار بار تخریب کاری کا نشانہ کیوں بنتی ہیں اور ایک محدود نوعیت کی مرمت میں کئی کئی روز کیوں لگا دیے جاتے ہیں؟ اگر مسئلہ صرف چند فٹ پائپ لائن کی مرمت اور پیچنگ کا ہے تو اس کام کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے میں اتنی تاخیر کیوں؟
ہر بار کبھی سیکیورٹی کلیئرنس، کبھی تکنیکی مسائل اور کبھی کسی دوسرے عذر کو بنیاد بنا کر گیس کی بحالی میں تاخیر کی جاتی ہے۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا بلوچستان کے شہریوں کو بنیادی سہولت کی فراہمی کے لیے بھی ہفتوں انتظار کرنا ہوگا؟
یہ امر بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ بلوچستان سے گیس کے وسائل حاصل کرنے کے باوجود اسی صوبے کے عوام کو گیس کی فراہمی میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ گیس محض ایک کاروباری سہولت نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی بنیادی ضرورت ہے۔
حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی عوام کو مزید اذیت میں مبتلا کرنے کے بجائے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں، پائپ لائن کی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرکے گیس کی فراہمی بحال کی جائے۔
بلوچستان کے عوام مزید تاخیری حربے برداشت نہیں کریں گے۔ گیس کی فوری بحالی حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری سے فرار کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔