Daily ruzn1.9
daily ruzn newspaper breaking news urdu news. Updates

مستونگ ماں دودھ بچوں کیلئے مفید غذائیں 20-08-2026

مستونگ ماں دودھ بچوں کیلئے مفید غذائیں 20-08-2026

*مستونگ: ماں کا دودھ بچوں کی صحت اور قوتِ مدافعت کے لیے قدرتی تحفظ ہے، ماہرین*

مستونگ:بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ محکمہ صحت، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام اور یونیسف کے تعاون سے ڈائریکٹر نیوٹریشن ڈاکٹر نعیم خان زرکون کی خصوصی ہدایت پر مستونگ میں ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے ڈی ایچ او آفس میں میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔
میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سلیم رہسانی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر ظہوراحمد، ڈسٹرکٹ مینجر پی پی ایچ ائی محمد ریاض مینگل،کمیونٹی کمیونیکیشن افیسر ضلع مستونگ سید افتخار شاہ، نیوٹریشن کوآرڈینیٹر محمد حسنین شاھوانی اور نیشنل پروگرام کے محمد آصف ترین شامل تھے۔ ڈی ایچ او ڈاکٹر سلیم رہسانی نے کہا کہ ماں کے لیے دورانِ حمل متوازن خوراک کا استعمال، ٹی ٹی ویکسینیشن اور کسی بھی طبی پیچیدگی کی صورت میں بروقت طبی عملے سے رجوع کرنا ضروری ہے، جس سے ماں اور بچے کی صحت بہتر رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور قوتِ مدافعت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ماں کا دودھ بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں قدرتی حفاظتی کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ ماں اور بچے کی شرحِ اموات میں کمی کے لیے شعور و آگاہی، بروقت ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کی صحت، نشوونما اور بیماریوں کے خلاف مدافعت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سورہ بقرہ میں آیا ھے کہ دو سال تک بچوں کو صرف ماہ کا دودہ پلانا چاہیے۔مصنوعی دودھ وقتی طور پر بچے کی بھوک مٹا سکتا ہے، تاہم ماں کے دودھ میں موجود قدرتی غذائی اجزا اور حفاظتی خصوصیات بچے کی بہتر نشوونما اور صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس لیے ماؤں کو بچوں کو ابتدائی چھ ماہ تک صرف اپنا دودھ پلانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ماں اور بچے دونوں کے لیے متوازن خوراک ضروری ہے، تاہم مہنگائی، غربت اور قدرتی آفات کے باعث بعض خاندان غذائی کمی کا شکار ہیں۔ مستونگ میں غذائی کمی کے باعث بچوں میں لاغر پن، قد کی مناسب نشوونما نہ ہونا اور دیگر صحت کے مسائل سامنے آ رہے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی اور مؤثر آگاہی ناگزیر ہے۔
میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگست کے دوران ضلع مستونگ میں ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے مختلف آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں ایل ایچ ڈبلیو ٹیموں، بینظیر پروگرام کے مراکز، نیوٹریشن پروگرام کے او ٹی پی سینٹرز اور تعلیمی اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔
اس موقع پر ڈی ایم پی پی ایچ آئی ریاض مینگل، پریس کلب کے چیرمین عبدالحکیم شاھوانی، نائب صدر اللہ بخش شاھوانی، سینئر صحافی مقصود شاھوانی بابل بلوچ، صحافی سمیع اللہ نورزئی، سماجی کارکنوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More