موسمیاتی تبدیلیاں 06ـ10ـ2026
موسمیاتی تبدیلیاں 06ـ10ـ2026

پریس ریلیز
سندھ کے شہریوں کے لیے موسمیاتی تحفظ اور شہری ترقی کے بڑے منصوبے — میئر سکھر
منیلا: میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ہیڈکوارٹر منیلا میں منعقد ہونے والے کلائمیٹ ایڈاپٹیشن انویسٹمنٹ پلاننگ فورم (CAIP) میں بطور مہمان مقرر شرکت کرتے ہوئے سندھ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، شہری ترقی اور بلدیاتی خدمات کی بہتری کے لیے اہم اقدامات اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو اجاگر کیا۔
صحافیوں اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو درپیش سب سے سنگین چیلنجز میں شامل ہے۔ شدید گرمی، سیلاب اور پانی کی قلت نے دنیا بھر میں عوامی زندگی، روزگار اور بنیادی شہری سہولیات کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ CAIP فورم میں حکومتوں کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے شرکت کی، جہاں مربوط منصوبہ بندی، موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے مؤثر شراکتی ماڈلز کے ذریعے عملی حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ پاکستان، سندھ اور بالخصوص اپنے شہر سکھر کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
سندھ کے پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لیے ایک ارب ڈالر کا بڑا پروگرام
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے بتایا کہ حکومت سندھ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے سندھ سیکنڈری سٹیز امپروومنٹ اینڈ انویسٹمنٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جو صوبے کی تاریخ کے بڑے شہری ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔
اس پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 278 ارب پاکستانی روپے کی سرمایہ کاری پانچ بڑے شہروں میں کی جائے گی جو ڈویژنل ہیڈکوارٹرز ہیں:
– سکھر
– حیدرآباد
– لاڑکانہ
– میرپورخاص
– شہید بینظیرآباد
انہوں نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی، سیوریج اور گندے پانی کے بہتر انتظام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور جدید سائنسی لینڈ فل سائٹس کی تعمیر ہے، جن میں وسائل کی بازیابی اور آمدنی پیدا کرنے کے نظام بھی شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر، شجرکاری و شہری جنگلات، عالمی معیار کے مطابق جامع ماسٹر پلانز اور مختلف شعبوں کے لیے تفصیلی ترقیاتی منصوبے بھی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ یہ پروگرام صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد شہروں کی معاشی ترقی، ہر شہر کی معاشی خصوصیات اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دینا اور نوجوانوں، خواتین اور کمزور طبقات کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پروجیکٹ ریڈی نیس فنانسنگ سے متعلق دستاویزات تقریباً مکمل ہو چکی ہیں اور جلد شائع ہونے کی توقع ہے۔
پروگرام میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبے بھی شامل ہوں گے، جن کا مقصد شہری خدمات کو بہتر بنانا اور بلدیاتی اداروں کے لیے پائیدار آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا ہے، تاکہ میونسپل کارپوریشنز بتدریج مالی طور پر خود کفیل ادارے بن سکیں۔
اے ڈی بی کی مکمل معاونت کی یقین دہانی
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ اے ڈی بی کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا، معزز ینگ منگ یانگ (Yingming Yang) نے حکومت سندھ اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کے ساتھ ان منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے مکمل تعاون اور معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی جانب سے سندھ کے شہری اور موسمیاتی منصوبوں میں تعاون صوبے کی ترقیاتی ترجیحات پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے۔
سکھر کے لیے 2 ملین ڈالر کی گرانٹ
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے سکھر کے حوالے سے اہم خوشخبری دیتے ہوئے دی راک فیلر فاؤنڈیشن، برطانوی حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے اربن ریزیلینس ٹرسٹ فنڈ کے تحت سکھر کے کلائمیٹ اینڈ ہیٹ ایڈاپٹیشن انویسٹمنٹ پلاننگ کے لیے 20 لاکھ امریکی ڈالر کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ رقم مکمل طور پر گرانٹ ہے، قرض نہیں، جس پر کسی قسم کی واپسی، قرض کی ادائیگی یا سروس چارجز عائد نہیں ہوں گے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ ان شاء اللہ نومبر 2026 میں بین الاقوامی کنسلٹنٹس سکھر میں اپنا کام شروع کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاونت کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبے تیار کیے جائیں گے، مزید مالی وسائل حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور شہری بنیادی سہولیات اور شدید گرمی سے تحفظ کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا خصوصی مقصد موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی کے اثرات سے کم آمدنی والے خاندانوں اور کچی آبادیوں کے رہائشیوں سمیت کمزور طبقات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
نیپال کے سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی
CAIP فورم کے موقع پر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے وزیراعلیٰ مدھیش صوبہ نیپال مسٹر کرشنا پرساد یادو سے بھی ملاقات کی اور نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سندھ بھی موسمیاتی آفات کے باعث پیدا ہونے والے انسانی دکھ اور مشکلات کو بخوبی سمجھتے ہیں، اس لیے عالمی تعاون، موسمیاتی لحاظ سے مضبوط منصوبہ بندی اور تجربات کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں عوامی ترقی کا عزم
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی متحرک اور نوجوان قیادت میں پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کا عزم ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کرکے عوام کی زندگیوں میں دیرپا بہتری لائی جائے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا:
“ہمارا مقصد واضح ہے: ترقیاتی خیالات کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا، اپنے شہروں کو مضبوط بنانا، موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں ان کی استعداد بڑھانا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ترقی کے سفر میں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔”
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جو سندھ میں موسمیاتی تحفظ، شہری ترقی اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔
جئے بھٹو!
پاکستان زندہ باد!