جماعت اسلامی دھرنا 30-08-2026
جماعت اسلامی دھرنا 30-08-2026

کوئٹہ، جماعت اسلامی پاکستان کا دھرنا جاری ، خواتین کی بڑی تعداد دھرنے میں شامل ،
جماعت اسلامی کے اکابرین سے گزارش ہے بلوچستان بھر کے قومی شاہراؤں پر مریض و عاملہ خواتین راستوں کی بندش کے باعث کچے راستوں پر سفر کرتے ہیں سخت مشکلات میں مبتلا رہنے کے ساتھ ساتھ تین گھنٹے کا سفر 6گھنٹے میں اور 10گھنٹے کا سفر 22سے 24 گھنٹے میں طے کرتی ہیں ، بلوچستان کے قومی شاہرائیں اب راستوں کی بندش کے باعث گاہنی کے مراکز بنی ھوئی ہے صوبے کے مریض اور عاملہ خواتین راستوں میں بندشوں کے باعث گاڑیوں اور ایمبولینسز میں بچوں کو جنم دیتی ہیں ، کہا آپ چاہتے ہیں کہ خواتین اب کوئٹہ شہر کے سڑکوں پر بجے جنم دیں مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے قبرستان پہنج جائے تو عوام کا راستہ روکے رکھیں ، وزراء گورنر ، اور وزیر اعلی کا راستہ کھلا چھوڑیں اگر آپ کی جماعت عوام کی سیاست کرتی ہے تو عوام کو مزید زحمت دینے سے گریز کریں ، گورنر ہاؤس یا ریڈ زون بند نہیں کر سکے کم سے کم شاہراہ عام بند نہ کریں کسی اسٹڈیم یا کرکٹ گراؤنڈ میں بیٹھ کر ان مسائل کی بات کریں ، تاکہ عوام کو زحمت نہ ھو یہ عوامی راستوں کی بندش عوامی سیاست کے خلاف کھلا تضاد ہے، جناب صدر جماعت اسلامی محترم ہدایت الرحمان سے گزارش ہے کہ آپ کی آواز پر اسمبلی فلور پر صوبے کے حکمران عمل در آمد نہیں کرتے تو یہاں گورنر ہاؤس کے پیچھے ایک سال تک بیٹھ کر یہی مطالبات دہرائیں ان پر عمل نہیں ھوگا جناب ہدایت الرحمان صاحب آپ نے چیک پوسٹوں پر جاکر احتجاج ریکارڈ کرایا مگر چیک پوسٹوں کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ھوئی، اس کا راز کیا ہے وہ اپ کو پتہ ہے بیچارہ عوام کو تو پتہ بھی نہیں ھوگا، جب آپ سے چیک پوسٹیں تک نہیں ہٹ سکیں ، اسمبلی فلور پر تقریروں پر توجہ نہیں دیا گیا، پیٹرول سستی نہیں ھوئی تو اب آپ نے الٹا عوام کے راستوں کو کوئٹہ شہر میں بند کر کے اپنی تقریروں کا آغاز کردیا لہزا اب آپ سے ہماری اپیل ہے کہ یہ عوام خود پہلے سے راستوں کی تکلیفیں کاٹ کر کویٹہ پہنچتی ہے مریض گھنٹوں گھنٹوں کچے راستوں پر سفر کر کے ہسپتال اور ڈاکٹر کے لئے پہنچتے ہیں تو آپ نے یہاں بھی انکا راستہ روک لیا ، تو آپ میں اور چیک پوسٹ یا ناکہ والوںمیں کیا فرق رہ گیا عوام اننسے تکلیف میں ہے اسی طرح آپ سے بھی تکلیف میں ھونگے ، بلوچستان میں اسطرح کے احتجاج کو اگر کوئی اہمیت ھوتی تو بلوچستان اس نہج پر نہیں پہنچتا ، اور مسنگ پرسن کے کمیپ کو احتجاج کرتے ھوئے ہزاروں دن نہ گزرے ، لہزا آپ سے گزارش ہے عوام کا راستہ کھول دیں ، اگر راستہ روکنا ہے تو حکمرانوں کا روک لیں ، یہ سو ڈیڈھ سو افراد کے ساتھ نہ کوئی حکمران آپ کے کہنے پر چیک پوسٹوں پر تلاشی روکے گے اور نہ قومی شاہراہوں کی بندش ختم ھوگا ، تو کیوں روکا کو زحمت دے رہے ہیں آپ ، پھر یہ کہنا بجا ھوگا کہ آپ بھی راستہ روکنے والوں کے پروگرام میں شامل ہے، اور عوام کو برائے راست زہر نہیں بلکہ کسی میٹھے چیز میں زہر دے کر مارنا چاہتے ہیں اگر یہ حقیقت نہیں تو مہربانی کر کے عوامی راستہ کھول کر حکمرانوں کا راستہ روک دیں شکریہ