وزیر اعظم پاکستان 21-08-2026
وزیر اعظم پاکستان 21-08-2026

*بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ سے نکالنا ہوگا جو کچھ ہوگیا، ہوگیا، اب گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا بلوچستان کے بیٹے اور بیٹیاں راستہ درست کرنے کو تیار ہیں تو خوش آمدید کہیں گے، وزیراعظم۔*
*اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کا حل بات چیت اور مکالمے کے ذریعے تلاش کرنا ہوگا، بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے، جبکہ حکومت بلوچستان کے جائز شکوے اور شکایات سننے کے لیے تیار ہے۔*
*بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ بلوچستان بلوچ اور پشتون اقوام پر مشتمل خطہ ہے، جس کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی، رواداری اور عظیم روایات سے عبارت ہے۔ ڈائیلاگ کا مقصد بلوچستان کے عوام اور ورکشاپ کے شرکاء کی بات سننا ہے۔*
*وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، سخت سے سخت مسئلہ بھی مکالمے کے ذریعے حل ہوسکتا ہے۔ حکومت بلوچستان کے جائز شکووں کو ایک مرتبہ نہیں بلکہ ہزار مرتبہ سننے کے لیے تیار ہے۔*
*شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوگیا، ہوگیا، اب گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا، اگر بلوچستان کے بیٹے اور بیٹیاں اپنا راستہ درست کرنے کے لیے تیار ہیں تو انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کی آڑ میں کوئی محب وطن بندوق نہیں اٹھا سکتا، ہمیں خون کی سڑک کو امن کی سڑک میں تبدیل کرنا ہوگا۔*
*وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے دشمن ممالک کا ہاتھ ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر دوسروں کی زندگیاں بچا رہے ہیں۔*
*انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مزدوری کرنے والے افراد کو شناخت کی بنیاد پر قتل کرنا کسی صورت جائز نہیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی مسائل کے حل کا مؤثر طریقہ ہے، جب تک بلوچستان ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔*
*شہباز شریف نے مزید کہا کہ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے اور ماں کبھی نہیں چاہتی کہ اس کے بچوں کو تکلیف پہنچے۔ بلوچستان کے عوام کے جائز مسائل اور شکایات کا ازالہ بات چیت، انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔*