چیف سیکرٹری بلوچستان
چیف سیکرٹری بلوچستان
کوئٹہ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے عوام کو بنیادی سہولیات کی بہترین فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شہریوں تک بنیادی خدمات کی بروقت رسائی، سرکاری عمل میں آسانی اور عام آدمی کی فلاح و بہبود میں تبدیلی لانا ہے۔ عوامی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ان اقدامات سے شہریوں کو روزمرہ زندگی میں خاطر خواہ سہولت اور اعتماد حاصل ہوگا، اور شفاف سروس ڈیلیوری کے ذریعے حکومت اور عوام کے درمیان تعلق مضبوط ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبے بھر کے اہم ترقیاتی منصوبوں، ٹینڈرز کے عمل، محکموں کے اندرونی نظم و نسق اور عوامی سہولیات کی فراہمی سمیت متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ ٹینڈرز کی رفتار اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے روٹس میپ مرتب کیا جائے۔ سنگل بڈرز کی صورت میں فوری طور پر کھلی مقابلے کے فروغ کی پالیسی اپنائی جائے، تاکہ عوامی فنڈز کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ ہر محکمہ اپنے سالانہ KPI’s طے کرے گا اور ان کا نفاذ باقاعدہ آڈٹ کے ذریعے ماپا جائے گا۔ KPI کی تکمیل کو کارکردگی سے جوڑا جائے گا تاکہ ذمہ داران جوابدہ ٹھریں۔ انہوں نے ہر محکمے میں باقاعدہ انٹرنل آڈٹ کرانے اور انٹرنل آڈیٹر کی تعیناتی لازمی قرار دی گئی۔ انہوں نے محکموں میں پروموشن کیسز شروع کرنے اور خالی آسامیوں کی پروسیس کو جلد از جلد میرٹ پر بھرتی کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ اداروں میں صلاحیت اور کارکردگی بہتر ہو۔ چیف سیکرٹری نے تمام سیکرٹریز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ماتحت افسران اور عملے کی اضلاع میں حاضری کو یقینی بنائیں، تاکہ خدمات کی فراہمی میں خلل نہ رہے اور عوام کو بروقت سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمے ملازمین کی استعداد بڑھانے کے لیے منظم اور دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق تربیتی کورسز کروائے جائیں تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں، تکنیکی معلومات اور سروس ڈلیوری کے معیار میں واضح بہتری آئے۔ یہ کورسز عملی تربیت، جدید سافٹ ویئر و ڈیجیٹل مہارتوں پر مشتمل ہونے چاہئیں۔ چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کا اولین فرض ہے کہ عوام کو معیاری اور بروقت سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، میرٹ اور جوابدہی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔