Daily ruzn1.9
daily ruzn newspaper breaking news urdu news. Updates

ڈی جی آئی ایس پی آر ریاست ہے تو سیاست ہے،ریاست ہے تو جان ہے،ڈی جی آئی ایس پی

ڈی جی آئی ایس پی آر ریاست ہے تو سیاست ہے،ریاست ہے تو جان ہے،ڈی جی آئی ایس پی

ڈی جی آئی ایس پی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی نیوز کانفرنس
آج کی بریفنگ کا مقصد سیکیورٹی سے متعلق امور پر آگاہ کرنا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
دہشت گرد ریاست کی رٹ کے سامنے سرینڈر کریں ورنہ ہم یہاں ہیں اور لڑرہے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر
ریاست ہے تو سیاست ہے،ریاست ہے تو جان ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ریاست کے ساتھ وفا داری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ملٹری اسٹیٹ کو چلا رہی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
طالبان رجیم دہشت گردوں کی مدد کررہی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
طالبان کی ڈپلومیسی بھی دہشت گردی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
جان بوجھ کر یہ بات پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہوچکے ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
اب تک 40ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے ،ڈی جی آئی ایس پی آر
بلوچستان میں31ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
کے پی میں 7 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
آپریشن کے دوران 2ہزار 84 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر
دہشت گردی کے واقعات میں آرمی کے 303 جوان شہید ہوئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
322شہری دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہوئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
گزشتہ پانچ سال کے دوران انسداد دہشت گردی کےلئے آپریشن کئے گئےڈی جی آئی ایس پی آر
دہشت گرد ریاست کی رٹ کے سامنے سرینڈر کریں ورنہ ہم یہاں ہیں اور لڑرہے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان باشندے ملوث ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر
سیکیورٹی فورسز نے 194 آپریشن روزانہ کئے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
دہشت گردوں کو اب سمجھ آگیا ہے اب ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی،،ڈی جی آئی ایس پی آر
ہارڈ اسٹیٹ وہ ہے جہاں تمام معاملات آئین وقانون کے مطابق ہی ہوں گے،ڈی جی آئی ایس پی آر
بلوچستان کے متعلق جان بوجھ کر منفی پروپگینڈا کیا جا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
بلوچستان سے متعلق جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
کیا ہم اپنے حقوق کی بات کرنے سے پہلے اپنے فرائض سے آگاہ ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
کچھ جماعتوں کی جانب سے حقوق کی بات کی جاتی ہے لیکن کیا اپنے فرائض سے آگاہ ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
ریاست ہے تو سیاست ہے،ریاست ہے تو جان ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ٹانک،کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں افغانی ملوث تھے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ایلیٹ اور سردار کہتے ہیں غریب کا بچہ آگے نہ بڑھے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ہم تم سے بات نہیں کریں گے،ہم بلوچستان کے لوگوں سے بات کریں گے،ڈی جی آئی ایس پی آر
کیا یہ ہرشہری پر فرض نہیں کہ ہماری پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکسان میں آئین وقانون سب کےلئے یکساں ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
یہ لوگ لیویز فورس کو اپنی سرداری فورس سمجھتے ہیں
ڈی جی ائی ایس پی آر
کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل اسمگل کرتے ہیں،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
معرکہ حق میں حکمت عملی ناکام ہونے پر بلوچستان میں نظریں جمائی گئیںلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کر دیں گے
تنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان میں کوئی فرق نہیں ہے
یہ کہتے ہیں جو ہزار ارب سے زائد بجٹ ملتا ہے اس میں حصہ دو،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کررہی ہے،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
یہ اپنے غیر قانونی دھندوں کےلئے پر مٹس مانگتے ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
دہشت گردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
یہ اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں ہمیشہ ان کا غلام رہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کےلئے لیویز فورس چاہیئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ان کو مسئلہ ہے کہ ہمارے پیروں کو ہاتھ کیوں لگایا جارہا،ڈی جی آئی ایس پی آر
انہیں عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے،میں اس کا سردار ہوں،ڈی جی آئی ایس پی آر
فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کے بھارتی مائی باپ ہیں
_لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف
افغانستان اور بھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اور کیا چیز مشترکہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ہماری پہلی پہچان پاکستانی ہے کوئی دوسری قومیت نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج مین کیا فرق ہے کچھ نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
یہ افغانستان نہیں افغان طالبان رجیم کے زیر قبضہ علاقے ہیں،،ڈی جی آئی ایس پی آر
بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
لاپتہ افراد کا پرپیگنڈا بھی ناکام ہوگیا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
بلوچستان سے آئی درخواستوں میں 2700افراد کی شناخت ہوگئی،ڈی جی آئی ایس پی آر
بلوچستان سے لوگ کہتے ہیں ہمارا بھائی یا بیٹا مسنگ ہوگیا ہے اس ے کوئی تعلق نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
ایسے مسنگ کا پتہ چلتا ہے کہ وہ بی ایل اے میں شامل ہوگیا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
جن مسنگ افراد کی فہرستیں دی جاتی ہیں وہ کہیں لڑائی میں مارے جاتے ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
محسن نقوی کا بیان ان کا ذاتی خیال ہے، ملک میں گڈ گورننس لازمی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More