Daily ruzn1.9
daily ruzn newspaper breaking news urdu news. Updates

محمود خان جرگے سے خطاب30-08-2026

محمود خان جرگے سے خطاب30-08-2026

*کوئٹہ: محمود خان اچکزئی کا جرگے سے خطاب، پشتونوں کو متحد ہوکر اپنے حقوق، وسائل اور وطن کے تحفظ کی اپیل*

کوئٹہ: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ جب کسی قوم پر مشکلات بڑھ جائیں، حکمرانوں سے خیر کی امید باقی نہ رہے، بدامنی پھیل جائے اور لوگوں کی جان و مال محفوظ نہ رہے تو پشتون روایات کے مطابق جرگہ بلایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں منعقدہ یہ جرگہ کسی سیاسی جماعت کی بالادستی کے لیے نہیں بلکہ پشتون قوم اور خطے میں آباد تمام اقوام کی مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ کے علاقے ایئرپورٹ روڈ پر کبابش میرج ہال میں منعقدہ جرگے سے پشتو زبان میں افتتاحی خطاب کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ زیارت کے واقعے کے بعد جس انداز میں لوگوں کو قتل کیا گیا اور اس کے بعد جو حالات پیدا ہوئے، ان کے پیش نظر پارٹی نے ضروری سمجھا کہ تمام پشتونوں اور خطے میں آباد دیگر اقوام کے معتبرین، بزرگوں، نوجوانوں اور خواتین کو ایک جگہ جمع کرکے ان کی رائے اور رہنمائی حاصل کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جرگے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکن اپنی جماعت کی حیثیت سے فیصلے مسلط نہیں کریں گے بلکہ قوم کے معتبر افراد، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور عمائدین کی بات سنی جائے گی۔ ان کے بقول سیاسی جماعتوں کی اپنی اہمیت ہے تاہم عوام کی رائے اور قومی مشاورت اس سے بھی زیادہ اہم ہے، اس لیے آل پارٹیز کانفرنس بعد میں بھی بلائی جاسکتی ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون عوام طویل عرصے سے غربت، بھوک، بدامنی اور بے گھر ہونے جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرکے ملک کے دیگر حصوں اور بیرون ملک روزگار کے لیے جانے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کو اپنی تاریخ، شناخت، عزت اور اپنے وطن کے وسائل کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے آمو سے دریائے اباسین تک کا خطہ تاریخی طور پر مختلف اقوام کا مسکن رہا ہے اور پشتونوں نے اس سرزمین کے دفاع کے لیے طویل جدوجہد اور قربانیاں دی ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت کسی انسان سے زبان، نسل یا علاقے کی بنیاد پر نفرت کو درست نہیں سمجھتی۔ پاکستان میں آباد تمام اقوام برابر کی حیثیت رکھتی ہیں اور کوئی کسی کا آقا یا غلام نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور تمام قومیتوں کے حقوق اور ذمہ داریاں واضح طور پر متعین ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخوا کے وسائل، خصوصاً معدنیات، زمین اور دیگر قدرتی ذخائر، وہاں کے عوام کی ملکیت ہیں اور ان کے استعمال یا فروخت کے معاملات میں مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان یا کسی غیر ملکی ملک کے ساتھ وسائل کے حوالے سے معاہدے کیے جاتے ہیں تو سب سے پہلے مقامی لوگوں کا حصہ اور حق واضح کیا جائے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون کسی سے خیرات نہیں مانگتے بلکہ اپنے وسائل پر اپنا حق چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پشتون اپنے وطن سے باہر جاکر محنت مزدوری کرسکتے ہیں تو اپنے علاقوں میں بھی روزگار اور معاشی مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، جس سے نہ صرف پشتون علاقوں بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرستان، تیراہ، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں جاری بدامنی، ڈرائیوروں کے قتل، گاڑیوں کو جلانے اور سڑکوں پر لوگوں کو روکنے کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے ریاست سے سوال کیا کہ اگر شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے تو پھر ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جارہے۔

بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ یہ جرگہ بلوچوں کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اپنی سرزمین پر آباد ہیں اور پشتون اپنی سرزمین پر، جبکہ کوئٹہ اور بلوچستان میں آباد ہزارہ، پنجابی، سندھی، ہندو، سکھ، مسلمان اور دیگر تمام برادریاں اس خطے کی برابر کی حصہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشتون اور بلوچ سمیت تمام اقوام کو باہمی احترام، برابری اور شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی گروہ کی مسلح سرگرمیوں کے نتیجے میں عام شہری، ڈرائیور، تاجر یا خواتین اور بچے متاثر ہوں تو اس صورتحال کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔

محمود خان اچکزئی نے بلوچستان میں زمینوں کی تقسیم، مردم شماری، انتظامی تقسیم اور پشتون علاقوں کی حیثیت کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ان معاملات پر خاموش نہیں رہے گی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کو گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگوں نے تباہ کیا، جس کے ذمہ دار بڑی طاقتیں اور ان کے اتحادی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری، خصوصاً وہ ممالک جو افغانستان کی جنگ میں براہ راست یا بالواسطہ شریک رہے، افغانستان کی تعمیر نو اور اس کی خودمختاری و آزادی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور جنگیں اکثر ناانصافی سے جنم لیتی ہیں۔ اگر معاشرے میں حقوق اور انصاف کا توازن قائم نہ ہو تو نفرت پیدا ہوتی ہے اور نفرت بالآخر تصادم کا سبب بنتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایک ایسا ملک بننا چاہیے جہاں پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون سمیت تمام اقوام برابر کے شہری ہوں۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے یہ جرگہ اپنی سیاسی طاقت یا برتری ظاہر کرنے کے لیے نہیں بلایا بلکہ اسے ایک قومی جرگے کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق ایسے جرگے کا مقصد پوری قوم کو موجودہ حالات، اپنے حقوق اور مستقبل کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر پشتون قوم کے لیے تین جرگوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک جرگہ پاکستان میں آباد پشتونوں کا، دوسرا افغانستان کے پشتونوں کا جبکہ تیسرا دنیا بھر کے پشتونوں اور افغانوں کا عالمی جرگہ ہونا چاہیے تاکہ مشترکہ مسائل پر اجتماعی غور کیا جاسکے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ جرگہ پوری پشتون قوم کے لیے ایک پکار ہے کہ وہ اپنے وطن، عزت، جان و مال، ثقافت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے متحد ہو۔ انہوں نے کہا کہ جرگے کے شرکاء جو فیصلہ کریں گے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس فیصلے کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کو اپنے مسائل کے حل کے لیے عقل، شعور، اتحاد اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ان کے بقول اگر مقامی لوگوں کو ان کے وسائل اور زمینوں سے محروم کیا گیا تو پارٹی عالمی سطح پر بھی اپنی آواز اٹھائے گی۔

آخر میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مشکل وقت آنے سے پہلے قوم کو متحد ہونا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون قوم کی عزت، وطن اور وسائل کو خطرات لاحق ہیں اور موجودہ حالات میں تمام قبائل، سیاسی و سماجی قوتوں اور عوام کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More