مستونگ باغات وزیر اعلیٰ اپنا بیان واپس لیں30-08-2026
مستونگ باغات وزیر اعلیٰ اپنا بیان واپس لیں30-08-2026

کھڈکوچہ کے باغات کا خاتمہ مستونگ کی تاریخ، معیشت اور ہزاروں خاندانوں کے مستقبل پر حملہ ہوگا، وزیراعلیٰ بلوچستان فیصلہ واپس لیں، ڈاکٹر عائشہ فیض
کوئٹہ/مستونگ۔۔۔۔۔بزرگ سیاستدان مرحوم ملک فیض محمد یوسفزئی کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا ہے کہ مستونگ کے تاریخی اور قدیم علاقے کھڈکوچہ کے سرسبز باغات کو ختم کرنے اور مقامی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کا فیصلہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ کھڈکوچہ کے باغات صرف درخت اور زمینیں نہیں بلکہ صدیوں سے یہاں آباد لوگوں کی زندگی، معیشت، شناخت اور تہذیب کا حصہ ہیں۔ ان باغات کا خاتمہ درحقیقت ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنانے کے مترادف ہوگااپنے ایک بیان میں ڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا کہ کھڈکوچہ اپنی بہترین پیداوار، باغات اور اعلیٰ معیار کے پھلوں کی وجہ سے پورے ملک میں پہچانا جاتا ہے۔ اس علاقے کے لوگوں کی اکثریت کا براہ راست یا بالواسطہ روزگار انہی باغات اور زرعی زمینوں سے وابستہ ہے۔ یہ زمینیں کسی کی نئی ملکیت نہیں بلکہ نسلوں سے یہاں آباد خاندانوں کے آبا و اجداد کی امانت ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں اس مٹی اور ان باغات کی آبیاری میں گزار دیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی معاشی مشکلات اور بے روزگاری کے سنگین مسائل سے دوچار ہے، خصوصاً مستونگ کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں لوگوں سے ان کا بنیادی ذریعہ معاش چھین لینا اور انہیں اپنی آبائی زمینوں اور گھروں سے محروم کرنے کا فیصلہ مسائل کے حل کے بجائے مزید سماجی اور معاشی مشکلات پیدا کرے گاڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا کہ مستونگ محض ایک ضلع نہیں بلکہ ایک قدیم تاریخی شہر اور ایک عظیم سیاسی و سماجی روایت کا امین ہے۔ یہی بزرگ سیاستدان مرحوم ملک فیض محمد یوسفزئی کا مسکن رہا، جنہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی عوام کے حقوق، امن اور علاقے کی ترقی کے لیے وقف کیے رکھی۔ مستونگ کے عوام، سیاسی رہنماؤں اور بالخصوص نوجوانوں نے اس سرزمین کے امن و امان اور استحکام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس خطے کے امن اور بقا کے لیے قربانیاں دیتے رہے ہیں، انہیں ان کی آبائی زمینوں اور صدیوں پرانے ذریعہ معاش سے محروم کرنا کسی بھی صورت دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ حکومت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ زمین اور باغات صرف معاشی وسائل نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی تاریخ، شناخت اور جذبات سے جڑے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر عائشہ فیض نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ باغات کو ختم کرنے کے فیصلے پر فوری نظرثانی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھڈکوچہ کے باغات کا تحفظ صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ مستونگ کی تاریخ، معیشت، ثقافت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ ہم حکومت سے تصادم نہیں بلکہ انصاف، مشاورت اور عوامی مفاد پر مبنی فیصلے کی توقع رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کریں جو کھڈکوچہ کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھے، نہ کہ انہیں اپنی ہی سرزمین سے جدا ہونے پر مجبور کرے