کراچی صوبائی وزیر سعید غنی 19 -09-2026
کراچی صوبائی وزیر سعید غنی 19 -09-2026

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم کسی صورت بھی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر سندھ میں لیبر کوڈ نافذ نہیں کریں گے۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں کرپشن کی مصیبت سے نکلنے کے لئے میں کسی قسم کا کوئی ایکشن لیتا ہوں تو ہماری معزز عدلیہ اسٹے دے دیتی ہیں ۔ جو جو اس کرپشن میں ملوث ہیں ان کو ہٹاتا ہوں تو عدلیہ ان کو بحال کر دیتی ہیں، انکوائری کمیٹی تک کو کام کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ نجکاری کو میں ایک گھناؤنا جرم تصور کرتا ہوں کیونکہ حکومت جن جن اداروں کی نجکاری کرتی ہے یا کر چکی ہے اس کا ان کے بعد چیک اینڈ بیلنس کا کوئی میکنزم ہی نہیں ہے اور ادارے خریدنے والے ان اداروں کی زمینوں اور ان کی مشینری کو فروخت کردیتے ہیں اور مزدوروں کو بے روزگار کردیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) ہے تحت منعقدہ “نیشنل لیبر کانفرنس 2026 ” کے اختتامی سیشن سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ لیبر قوانین صوبہ سندھ نے سب سے زیادہ بنائے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا نفاذ اس طرح نہیں ہوتا جیسا قوانین میں درج ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہیں جس میں کچھ ہمارے افسران ہیں، کچھ دیگر عناصر اور تیسری بڑی وجہ افسران کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے محکمہ محنت میں 17 گریڈ یا اس کے اوپر کی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہوتی ہے اور مثال کے طور پر ہمیں 100 افسران کی ضرورت ہے تو ہمارے پاس صرف 20 سے 25 افسران ہی رہتے ہیں باقی دیگر ڈپارٹمنٹ میں اپنا ٹرانسفر کروا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کابینہ میں یہ تجویز دی ہے کہ آئندہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے جس جس محکمہ میں بھرتیاں ہوں ان افسران پر یہ پابندی ہونا چاہیے کہ کم سے کم 2 سے 3 سال تک ان کا کسی دوسرے محکمہ میں تبادلہ نہ ہوسکے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے مزدوروں کے حوالے سے کئی قوانین کو ٹھیک کیا ہے تاہم ابھی بھی کچھ مزید قوانین کو ٹھیک کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں محکمہ محنت میں ہم نے 2018 سے 2023 کی حکومت میں آخری کے 3 سال وزیر رہا اس دوران میں نے سیسی، ورکرز ویلفیئر اور محنت کے ڈپارٹمنٹ میں کئی اصلاحات کی اور اس کے تسلسل کو جاری رہنا تھا لیکن افسوس کہ 2024 کے انتخابات کے بعد میری خواہش کے باوجود بھی میری پارٹی نے مجھے لیبر کی بجائے لوکل گورنمنٹ و دیگر وزارتیں جو اس سے بڑی وزارتیں تھی دیں، جس سے کام کا تسلسل رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب دوبارہ مجھے محکمہ محنت کا وزیر بنایا گیا ہے تو ورکرز ویلفیئر بورڈ میں کرپشن کی نئی مصیبت میرے گلے میں کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس مصیبت سے نکلنے کے لئے کوئی ایکشن لیتا ہوں تو ہماری معزز عدلیہ اسٹے دے دیتی ہیں ۔ جو جو اس کرپشن میں ملوث ہیں ان کو ہٹاتا ہوں تو عدلیہ ان کو بحال کر دیتی ہیں ۔ انکوائری کمیٹی بناتا ہوں تو معزز عدلیہ اس کو کام سے روک دیتی ہیں یہاں تک کہ کابینہ سے منظور شدہ گورننگ باڈی کو بھی ہٹا دیا گیا تھا اب دو روز قبل کابینہ نے 3 گورننگ باڈی کے ممبران کی منظوری دوبارہ سے دی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت ورکرز ویلفیئر بورڈ کا کام مکمل طور پر رہا ہوا ہے اور اس محکمہ کے پاس مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے اچھا خاصا فنڈ ہونے ہے باوجود ہم کام نہیں کرسکتے اور یہ ایک زمینی حقیقت ہے جس کو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس کانفرنس میں مزدوروں کو کم سے کم اجرت نہ ملنے کی بات کی گئی اور کہا گیا کہ اس کے لئے محکمہ انسپیکشن کروائے تو حقیقت یہ ہے کہ ہمارے محکمہ میں افرادی قوت اتنی نہیں کہ وہ لاکھوں فیکٹریوں اور دیگر ان جگہوں کا انسپیکشن روزانہ کی بنیاد ت کرسکے۔ انسپیکشن کے نتیجہ میں جہاں جہاں ہمیں شکایات نظر آتی ہیں محکمہ اس پر ایکشن لیتا ہے لیکن مکمل طور پر ہم اس کا خاتمہ نہیں کرسکتے اس کے لئے ضروری ہے کہ جن مزدور کو کم سے کم اجرت اس کا ادارہ نہیں دیتا وہ ہمیں شکایت کرے تو ہم اس کے خلاف فوری ایکشن لے سکتے ہیں ۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے لیبر کوڈ کا کام کافی آگے تک مکمل کرلیا ہے اور اس کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری پے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت بھی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر سندھ میں لیبر کوڈ نافذ نہیں کریں گے، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ صوبے میں لیبر کوڈ کا نفاذ ہو تو اس کا دائرہ مزدوروں اور آجرو دونوں کو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے محکمہ محنت کے تحت مزدوروں کی فلاح و بہبود کا کام کرنے والے تمام محکموں کو ایک چھتری تلے لانے کے لئے کام کا آغاز کردیا ہے جبکہ یونیورسلائزیشن آف سوشل سیکورٹی کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بینظیر مزدور کارڈ کے کام کو بھی مزید تیز کرنے کی ہدایات دی ہیں کیونکہ یہ کام سست روی کا شکار تھا اور اس کا سبب بھی محکمہ کے کچھ افسران ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ یونیورسلائزیشن آف سوشل سیکورٹی کی راہ میں بڑی رکاوٹ وفاقی حکومت کی جانب سے 18 ویں ترمیم کے باوجود ورکرز ویلفیئر فنڈ اور EOBI کو صوبے کے حوالے نہ کرنا ہے اور اس کی وجہ سے سالانہ ڈیڑھ سے دو ارب روپے کا ہمیں خسارہ ہورہا ہے، اس سلسلے میں ہم۔نے وفاقی وزیر سے بات چیت کی ہے وہ ورکرز ویلفیئر فنڈ پر تو آمادہ ہیں لیکن EOBI کو صوبے کو دینے کے لئے آمادہ نہیں ہورہے ہیں جبکہ آئین کے تحت 18 ویں ترمیم کے بعد یہ دونوں محکمے صوبوں کے زیر انتظام ہونا ہے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ سیسی کے زیر انتظام ولیکا اسپتال میں ایچ آئ وی کیسز کا جس وقت مجھے معلوم ہوا اس وقت تک یہ بات میڈیا تک بھی نہیں آئی تھی اور میں نے فوری اس کی انکوائری کروائی اور اس کے بعد مزید کمیٹیاں بنائی گئی اور ان کے زمہ داران کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اس کے علاؤہ ہم نے کسی کے مطالبہ کے بغیر ہی 2 ارب روپے کا ایک اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا اور اس سے ان متاثرہ بچے کے اہلخانہ کو ہر ماہ 40 ہزار روپے صرف ان کی فلاح کے لئے دئیے جارہے ہیں جبکہ اس بچے کا علاج معالجہ اچھے سے اچھی اسپتال میں سیسی کے تحت کروایا جارہا ہے۔انہون نے کہا کہ ہم نے اینڈومنٹ فنڈ میں سرکاری افسران کو بہت کم جبکہ اچھی شہرت کے عامل عام افراد کو شامل کیا ہے تاکہ شفافیت رہے اور یہ سلسلہ میرے وزیر ہونے یا نہ ہونے یا پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے یا نہ ہونے کے بعد بھی ہمیشہ چلتا رہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پہلے فیز میں ولیکا اسپتال سائٹ کو ایک پرائیویٹ مینجمنٹ کو دیا جارہا ہے اور وہ صرف اس اسپتال کی مینجمنٹ کو سنبھالے گی جبکہ یہ اسپتال ہمارے محکمہ کا ہی ہوگا اور اس کی تمام زمہ داری بھی ہماری ہی ہوگی اس کے بعد لانڈھی و دیگر اسپتالوں کو پرائیویٹ مینجمنٹ کو دیا جائے گا، جس سے ان اسپتالوں کا معیار بلند ہوسکے،اس کے علاؤہ سیسی کے تحت کراچی، حیدرآباد، سکھر اور دیگر ان علاقوں میں جہاں مزدوروں کی تعداد زیادہ ہے وہاں بڑے بڑے اسپتال بھی قائم کئے جارہے ہیں، جہاں تمام طبی سہولیات ایک چھت تلے دستیاب ہوسکیں گی۔ سعید غنی نے کہا کہ آج جو سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو مزدوروں کی چیمپیئن جماعت قرار دیتی ہیں ان جماعتوں جن میں مسلم لیگ نون، عوامی نیشنل پارٹی و دیگر جماعتیں جو سینیٹ میں اس وقت موجود تھی، جب میں سینیٹر تھا اور میاں رضا ربانی اور میں نے سینیٹ میں ایک قرارداد پیش کی تھی کہ قومی اسمبلی، سینیٹ اور تمام صوبوں کی اسمبلیوں میں مزدوروں کے لئے دو دو نشستیں مختص کی جائیں تو ان سیاسی جماعتوں نے اس قرارداد کے لئے بنائی کئی قائمہ کمیٹی میں اس کی بھرپور مخالفت کی جبکہ واحد پاکستان پیپلز پارٹی تھی جو اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ سعید غنی نے کہا کہ نجکاری کو میں ایک گھناؤنا جرم تصور کرتا ہوں کیونکہ حکومت جن جن اداروں کی نجکاری کرتی ہے یا کر چکی ہے اس کا ان کے بعد چیک اینڈ بیلنس کا کوئی میکنزم ہی نہیں ہے اور ادارے خریدنے والے ان اداروں کی زمینوں اور ان کی مشینری کو فروخت کردیتے ہیں اور مزدوروں کو بے روزگار کردیا جاتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ نیب کے میگا کرپشن کیسز میں ایم سی بی کی نجکاری کا کیس ایک سب سے بڑا میگا کرپشن تھا، جس کو آج تک سپریم کورٹ کے احکامات ہے باوجود کچھ نہیں کیا گیا۔
*جاری کردہ: زبیر میمن، میڈیا کنسلٹنٹ وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی 03333788079*