کچلاک سے سریاب 29-09-2026
کچلاک سے سریاب 29-09-2026

کچلاک سے سریاب تک امید کا سفر
تحریر: خلیل احمد
کبھی کبھی کسی شہر کی تاریخ میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب ترقی کسی بلند عمارت، کسی بڑے منصوبے یا کسی طویل تقریر کی صورت میں نہیں بلکہ ایک سیٹی کی آواز بن کر سامنے آتی ہے۔ ریل کی پٹری پر پہیوں کی پہلی جنبش، اسٹیشن پر کھڑے مسافروں کے چہروں کی خوشی اور فضا میں گونجتا ہوا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ صرف ایک ٹرین کے چلنے کا منظر نہیں ہوتا، یہ اس احساس کا اظہار ہوتا ہے کہ شہر کو بھی آگے بڑھنے کا حق ہے، اس کے لوگوں کو بھی آسان سفر، بہتر سہولت اور باوقار زندگی کا حق حاصل ہے۔
کوئٹہ میں جناح پیپلز ٹرین کا آغاز اسی امید کی ایک نئی علامت ہے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کے لیے یہ محض ایک سفری منصوبہ نہیں بلکہ شہری زندگی کے ایک ایسے مسئلے کا عملی جواب ہے جس نے برسوں سے عام آدمی کو متاثر کر رکھا ہے۔ مہنگا سفر، ٹریفک کا دباؤ، وقت کا ضیاع اور شہر سے ملحقہ علاقوں سے روزانہ کوئٹہ آنے جانے والے ہزاروں افراد کی مشکلات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے ماحول میں کم خرچ، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت کی فراہمی یقیناً ایک اہم عوامی ضرورت ہے۔
جناح پیپلز ٹرین بلوچستان کا پہلا ماس ٹرانزٹ ٹرین منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے کچلاک سے سریاب تک 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کیا گیا اور منصوبہ تقریباً تین ارب روپے کی لاگت سے 120 دن میں مکمل کیا گیا۔ اس روٹ پر سات اسٹیشنز—کچلاک، بلیلی، شیخ ماندا، جی او آر، کوئٹہ، لور کاریز اور سریاب—شامل ہیں۔
یہ اعدادوشمار بظاہر چند سطری معلومات ہیں، لیکن اگر انہیں کوئٹہ کے روزمرہ سفر کرنے والے شہری کی زندگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ایک طالب علم جو روزانہ تعلیم کے لیے سفر کرتا ہے، ایک ملازم جو صبح گھر سے نکلتا ہے، ایک مزدور جو روزگار کی تلاش میں شہر آتا ہے، ایک تاجر جو کاروباری سرگرمیوں کے لیے مختلف علاقوں میں جاتا ہے یا ایک ایسا خاندان جسے شہر کے مختلف حصوں تک رسائی حاصل کرنی ہوتی ہے—ان سب کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ صرف گاڑی نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے شہریوں کو جدید، محفوظ اور کم خرچ سفری سہولت فراہم کرنے پر زور اسی سوچ کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق جناح پیپلز ٹرین طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور عام شہریوں کے روزمرہ سفر میں سہولت پیدا کرے گی اور شہریوں کے وقت اور سفری اخراجات میں کمی لانے میں مدد دے گی۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پنک بس اور گرین بس جیسے منصوبوں کے بعد ریلوے کو شہری سفری نظام کا حصہ بنانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور نقل و حرکت کی ضروریات کو صرف روایتی ذرائع سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ جدید شہر وہی ہوتا ہے جہاں شہری کے پاس سفر کے ایک سے زیادہ بااعتماد ذرائع موجود ہوں اور جہاں پبلک ٹرانسپورٹ عام آدمی کے لیے عزتِ نفس کے ساتھ سفر کا ذریعہ بنے۔
جناح پیپلز ٹرین کی اصل خوبصورتی شاید اس کے انجن یا کوچز سے زیادہ اس تصور میں ہے کہ سفر صرف صاحبِ حیثیت لوگوں کا حق نہیں۔ ریاستی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ عام شہری کو بھی ایسی سہولتیں فراہم کی جائیں جن سے اس کا وقت بچے، اس کی جیب پر کم بوجھ پڑے اور اسے اپنے شہر میں سفر کرتے ہوئے تحفظ اور وقار کا احساس ہو۔
اس منصوبے کا ایک اور مثبت پہلو پاکستان ریلوے اور حکومت بلوچستان کے تعاون کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ٹرین کی کوچز پاکستان ریلوے کی کیرج فیکٹری میں ریکارڈ مدت میں تیار کی گئیں، جبکہ ریلوے ٹریک اور اسٹیشنز کی بہتری کا کام بھی مکمل کیا گیا۔
یہ تعاون اس بڑے تصور کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ پاکستان کے مختلف ادارے اور صوبے مل کر ایسے منصوبے مکمل کر سکتے ہیں جن کا براہِ راست فائدہ شہریوں تک پہنچتا ہے۔ ریلوے محض پٹریوں، انجنوں اور بوگیوں کا نام نہیں؛ یہ شہروں، علاقوں اور لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔
اور شاید یہی جناح پیپلز ٹرین کا سب سے خوبصورت پیغام ہے۔
یہ ٹرین صرف کچلاک سے سریاب تک نہیں جائے گی، یہ کوئٹہ کے شہریوں کے دل میں یہ احساس بھی لے کر چلے گی کہ ان کے مسائل کو سمجھا جا سکتا ہے اور ان کے لیے عملی سہولتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔
یقیناً کسی بھی منصوبے کی کامیابی صرف افتتاح سے ثابت نہیں ہوتی۔ اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب ٹرین روزانہ پٹری پر دوڑے گی، جب مسافر وقت پر اسٹیشن پہنچیں گے، جب ٹکٹ کا نظام شفاف اور آسان ہوگا، جب صفائی برقرار رکھی جائے گی، جب خواتین، بچوں، بزرگوں اور خصوصی افراد کو مناسب سہولت ملے گی اور جب سروس وقت کی پابندی کے ساتھ مسلسل جاری رہے گی۔ یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں منصوبہ ایک افتتاحی تقریب سے نکل کر مستقل عوامی خدمت بنے گا۔
اسی لیے ضروری ہے کہ جناح پیپلز ٹرین کے نظام کو محض ایک منصوبہ سمجھ کر نہیں بلکہ کوئٹہ کے شہری ٹرانسپورٹ نظام کے ایک اہم حصے کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔ اسٹیشنز کے اطراف بہتر رسائی، پیدل چلنے والوں کے لیے سہولت، مناسب فیڈر ٹرانسپورٹ، پارکنگ، سکیورٹی، صفائی اور مسافروں کے لیے واضح معلومات اس منصوبے کے فوائد کو کئی گنا بڑھا سکتی ہیں۔
آج جب کوئٹہ مختلف نوعیت کے مسائل سے گزر رہا ہے، ایسے میں ایک آرام دہ ٹرین کی سیٹی یقیناً معمولی آواز نہیں۔ یہ شہری زندگی میں معمول، سہولت اور امید کی واپسی کی آواز ہے۔ پاکستان زندہ باد کے نعروں کے درمیان جب ٹرین کی وِسل گونجتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئٹہ کی پرانی پٹری نے بھی ایک نئے خواب کو قبول کر لیا ہو۔
ترقی ہمیشہ بڑے دعووں سے نہیں آتی۔ کبھی وہ ایک اسکول کے کھلنے سے آتی ہے، کبھی کسی اسپتال کی سہولت سے، کبھی کسی بس کے چلنے سے اور کبھی ایک ایسی ٹرین سے جو عام آدمی کو کم خرچ میں اس کی منزل تک پہنچا دے۔
جناح پیپلز ٹرین بھی ایسا ہی ایک خواب ہے—جو اب پٹری پر آ چکا ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس سفر کو جاری رکھا جائے۔ کیونکہ کوئٹہ کو صرف سڑکوں پر چلتی گاڑیوں کی نہیں، امید کی بھی ضرورت ہے۔ اور اگر ایک ٹرین ہزاروں لوگوں کے وقت، پیسے اور سفر کو آسان بنا سکتی ہے تو اس کی سیٹی محض ریل کی سیٹی نہیں رہتی، وہ پورے شہر کے لیے یہ پیغام بن جاتی ہے کہ سفر ابھی باقی ہے، منزل ابھی باقی ہے، اور کوئٹہ کی پٹری پر امید ابھی دوڑ رہی ہے